سماجی امور کی وزارت نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں موجود عوام کی مدد کے لیے ایک ہنگامی امدادی مہم کا آغاز کیا ہے۔ یہ مہم کویت کی سیاسی قیادت کی ہدایات کے مطابق شروع کی گئی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ کویت، فلسطینی کاز کی مسلسل اور پختہ حمایت کرتا ہے۔ اس مہم میں وزارتِ خارجہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی موجود ہے، جبکہ کویت ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (KRCS) اور دیگر کئی فلاحی تنظیمیں بھی اس میں شریک ہیں۔
عطیات جمع کرنے کی مدت اور طریقہ کار کا اعلان
محترمہ ایمان العنزی، جو وزارتِ سماجی امور کے "فلاحی تنظیموں اور اداروں کے شعبے” کی قائم مقام ڈائریکٹر ہیں، نے بتایا کہ مالی عطیات جمع کرنے کی اجازت تین دن کے لیے دی گئی ہے، جو اتوار 3 اگست سے شروع ہو گی۔ یہ عطیات صرف ان فلاحی تنظیموں کی سرکاری آن لائن ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز کے ذریعے جمع کیے جائیں گے جو اس مہم میں شریک ہیں۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ غذائی اشیاء کی صورت میں "عین نوعیت” کے عطیات (یعنی کھانے پینے کا سامان) جمع کرنے کی اجازت جمعرات، 31 جولائی سے شروع ہو چکی ہے۔ یہ عطیات ان فلاحی اداروں کے ذریعے جمع ہوں گے جو مخصوص اصول و ضوابط کے تحت اس مہم کا حصہ ہیں۔
غذائی سامان کی خریداری اور تقسیم کا منظم طریقہ
اس مہم کے تحت شریک تنظیموں اور فاؤنڈیشنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صرف "کویت فلور ملز اینڈ بیکریز کمپنی” سے ہی غذائی سامان خریدیں۔ یہ ہدایت کابینہ کے فیصلے نمبر 1461 کے مطابق دی گئی ہے تاکہ سامان کی کوالٹی اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
مجاز فلاحی اداروں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سرکاری اسٹیکرز یا لیبلز امدادی پیکجز پر لگا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام عین نوعیت کے عطیات (یعنی جو سامان کی صورت میں ہوں) کویت ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے حوالے کیے جائیں گے، جو ان کی منتقلی کا بندوبست مصر، اردن اور فلسطین میں موجود امدادی ایجنسیوں کے ذریعے کرے گی۔
نئے فنڈریزنگ پروگرام کی اجازت نہیں
وزارت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ امدادی فریم ورک سے ہٹ کر کسی بھی نئی مالی امدادی مہم (فند ریزنگ کمپین) کی اجازت نہیں ہوگی۔ امدادی رقوم صرف ان فلاحی منصوبوں کی باقی بچی ہوئی رقم یا ان تنظیموں کی ذاتی مالی شراکتوں سے فراہم کی جائیں گی جو اس مہم میں شامل ہیں۔
کویتی معاشرہ اور انسانی خدمت کا پیغام
محترمہ العنزی نے مزید کہا کہ کویت کی فلاحی خدمات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پہچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کویتی فلاحی کام دراصل ریاست کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے، اور اس کے ذریعے دنیا کو ایک مضبوط اور مسلسل پیغام دیا جاتا ہے۔ یہ پیغام کویتی معاشرے کی انسان دوستی، مدد کے جذبے، اور ایک طویل تاریخ پر مبنی انسانی ہمدردی کی عکاسی کرتا ہے۔


















