کویت میں وزارت داخلہ کی جانب سے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک ایشیائی گینگ کو گرفتار کیا گیا ہے جو شہریوں اور غیر ملکیوں کے بینک اکاؤنٹس سے غیر قانونی طور پر رقم نکال رہا تھا۔ اس گینگ نے اے ٹی ایم مشینوں کی ایک خاص فیچر ‘کارڈ کے بغیر رقم نکالنے’ (Cardless Withdrawal) کو مجرمانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو لوٹنا شروع کر رکھا تھا۔
24 گھنٹوں میں مرکزی ملزم کی شناخت اور گرفتاری
وزارت داخلہ کے پبلک ریلیشنز اور سیکیورٹی میڈیا ڈیپارٹمنٹ نے پیر کے دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اینٹی فنانشل کرائمز یونٹ نے بھرپور تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صرف 24 گھنٹوں کے اندر اس گینگ کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔
مرکزی ملزم کی شناخت ایم ڈی راجو ایم ڈی پینٹومیا کے نام سے ہوئی، جو کہ بنگلہ دیشی شہری ہے اور ’الجزیرہ انٹرنیشنل جنرل ٹریڈنگ گروپ‘ میں کام کرتا تھا۔ اس کی شناخت اُس وقت ممکن ہوئی جب مجرم کی تصاویر کو بایومیٹرک فنگر پرنٹ ڈیٹا بیس کے ساتھ میچ کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے اسے جلیب الشیوخ کے علاقے سے گرفتار کر لیا۔
ملزم کے قبضے سے نقد رقم اور اہم شواہد برآمد
گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے تقریباً 5,000 کویتی دینار نقدی، مختلف سم کارڈز، بینک کارڈز، اور منی ایکسچینج کی رسیدیں برآمد ہوئیں۔ یہ تمام چیزیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہ غیر قانونی طریقے سے رقم بیرون ملک منتقل کرنے والا تھا۔
بین الاقوامی گینگ کا انکشاف، دو پاکستانی شہری بھی ملوث
مزید تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ یہ محض ایک فرد کا کام نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی گینگ کا حصہ ہے جو خاص طور پر کویت کو نشانہ بنا رہا تھا۔
گرفتار ملزم ایم ڈی راجو دو پاکستانی شہریوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا، جن کے نام دلشریف شیلمی اور مرزا جاہا مرزا بتائے گئے ہیں۔ یہ دونوں مرزا جنرل ٹریڈنگ کمپنی نامی ریڈی میڈ گارمنٹس کمپنی میں ملازم تھے۔ دراصل یہ کمپنی صرف ایک ڈھونگ تھی تاکہ اس کی آڑ میں غیر قانونی طریقے سے پیسہ دوسرے ممالک بھیجا جا سکے۔
ہنڈی حوالہ کا کاروبار اور سابقہ کمپنی کا انکشاف
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان افراد کی ایک پچھلی کمپنی بھی تھی جو کہ غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث تھی۔ وہ بھی اسی طریقے سے رقم منتقل کرتی تھی، جسے بعد میں متعلقہ حکام نے بند کر دیا تھا۔ اب ان مجرموں نے دوسری کمپنی کے ذریعے پھر سے سرگرمی شروع کر رکھی تھی۔
وزارت نے تصدیق کی کہ ان پاکستانی ملزمان کو خيطان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے اور تمام آلات اور ثبوت جو پیسوں کی منتقلی میں استعمال ہو رہے تھے، قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔
پاکستان میں گینگ کا پتہ لگا لیا گیا، کارروائی جاری
وزارت نے یہ بھی بتایا کہ اس گینگ کے پاکستان میں موجود ساتھیوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستانی حکام سے رابطہ جاری ہے۔
وزارت داخلہ کا جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور
وزارت نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی جدید ٹیکنالوجی جیسے بایومیٹرک سسٹم کا استعمال جاری رکھے گی تاکہ ایسے جرائم کو جلد از جلد بے نقاب کیا جا سکے اور کویت کے شہریوں اور غیر ملکیوں کے مالی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کی اہم مثال ہے کہ کس طرح جدید مجرم نئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے، کویت کی سیکیورٹی فورسز کی تیزی اور مہارت نے ایک بڑے نقصان کو بروقت روک دیا۔ وزارت داخلہ کی کوششیں قابل تعریف ہیں اور یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہمیں ہر وقت اپنی مالی معلومات اور بینک اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے محتاط رہنا چاہیے۔


















