تسمانیہ کے ایک سنسان اور ویران ساحلی علاقے میں آسٹریلوی انجینئرز ایک عظیم الشان فولادی ڈھانچے کی تعمیر میں مصروف ہیں، جسے دنیا کا "بلیک باکس” قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مخصوص ڈھانچہ اس مقصد کے تحت بنایا جا رہا ہے کہ اگر انسانی تہذیب کسی دن زوال کا شکار ہو جائے، تو یہ ڈبہ آنے والی نسلوں کو بتا سکے گا کہ انسانیت نے کہاں کامیابی حاصل کی اور کہاں ناکامی۔
یہ فولادی مونولِتھ شمسی توانائی اور بیٹریوں سے چلایا جائے گا اور چوبیس گھنٹے مسلسل انسانی سرگرمیوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا ریکارڈ محفوظ کرے گا۔ اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح، عالمی سطح پر بڑھتے درجہ حرارت، ماحولیاتی معاہدوں، اور عالمی رہنماؤں کی تقاریر جیسے اہم لمحات کو محفوظ کیا جائے گا۔ یہ کسی جدید ’ٹائم کیپسول‘ کی طرح ہو گا جو مستقبل کی دنیا کو ہماری موجودہ حالت کی گواہی دے گا۔
اس پروجیکٹ کو زمین کے "فلائٹ ریکارڈر” کے طور پر تصور کیا جا رہا ہے، جیسے ہوائی جہازوں کا بلیک باکس کریش کے بعد حادثے کی وجوہات کا پتہ دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح، یہ بلیک باکس دنیا کے زوال یا ممکنہ تباہی کی صورت میں یہ بتانے کے لیے محفوظ رکھا جائے گا کہ ہم نے اپنی بقا کے لیے کیا اقدامات کیے یا کیا غلطیاں کیں۔ اس کے اندر سخت اسٹیل اور گرینائٹ سے بنا مضبوط خول ہوگا، تاکہ یہ سیلاب، آگ، زلزلے اور حتیٰ کہ ایٹمی حملے سے بھی محفوظ رہ سکے۔
اس فولادی بلیک باکس میں سینکڑوں ہارڈ ڈرائیوز نصب کی جائیں گی جو کئی دہائیوں کا ڈیٹا اپنے اندر سمیٹے رکھیں گی۔ انجینئرز کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد صرف مستقبل کے ماہرین آثار قدیمہ کو معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ آج کے عالمی رہنماؤں، سائنسدانوں اور عوام کو ایک کڑی وارننگ دینا بھی ہے کہ ہمارے اقدامات کس حد تک مستقبل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ ہمیں نہ صرف ماحولیاتی خطرات سے خبردار کرتا ہے بلکہ انسانیت کو خود احتسابی پر بھی مجبور کرتا ہے۔ بلیک باکس ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے آج ہوش کے ناخن نہ لیے، تو کل کی نسلیں ہماری کوتاہیوں کا بوجھ اٹھائیں گی۔ اس فولادی ڈبے کی خاموشی، ہماری چیخوں کی ترجمان ہو سکتی ہے—اگر ہم نے وقت پر کچھ نہ کیا۔


















