وزارتِ انصاف کے محکمہ شماریات و تحقیق کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ "عدالتی احکامات پر عمل درآمد” کے شعبے نے صرف مئی کے مہینے میں 13 لاکھ 59 ہزار سے زائد معاملات نمٹائے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ نئے نافذ کیے گئے عمل درآمدی طریقہ کار بہت مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کے احکامات اور قرض نہ ادا کرنے والوں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے جیسے سخت اقدامات نے ہزاروں افراد کو جلد از جلد اپنے قرضے چکانے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ ان پابندیوں سے بچ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ تعداد میں ایسے معاملات درج ہوئے جن میں قرض کی وصولی کے لیے تیسرے فریق پر ضبطی کی درخواستیں دی گئیں۔ ان کی تعداد 7 لاکھ 25 ہزار 398 رہی، جو کہ کل معاملات کا 53.4 فیصد بنتی ہے۔ دوسری طرف، قرض دار کی پیشی سے متعلق رپورٹوں کی شرح بہت کم رہی — صرف 0.0001 فیصد۔
مزید معلومات سے پتا چلتا ہے کہ مختلف علاقوں میں معاملات کی تعداد میں بھی فرق پایا گیا۔ سب سے زیادہ کارروائیاں دارالحکومت (Capital Governorate) میں کی گئیں، جو کل کا 27.3 فیصد بنتا ہے۔ اس کے بعد الفروانیہ 20 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، اور الاحمدی 19.2 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر۔ باقی معاملات دیگر علاقوں، بندرگاہوں، سلیبیہ اور کویت وکلا ایسوسی ایشن کے بیرونی مراکز میں درج کیے گئے، جن کا حصہ صرف 0.2 فیصد تھا۔
اسی ماہ میں "سفر پر پابندی” کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق، اس دوران کل 8,957 معاملات نمٹائے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ یعنی 39.3 فیصد معاملات ایسے تھے جن میں سفر پر پابندی ختم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ باقی دیگر اقسام کے معاملات، جیسے نئے پابندی احکامات جاری کرنا یا پرانے بند فائلیں دوبارہ کھولنا، بہت کم تعداد میں تھے — صرف 0.03 فیصد۔
جغرافیائی لحاظ سے، دارالحکومت نے ایک بار پھر سب سے زیادہ شرح یعنی 43.5 فیصد کے ساتھ سبقت حاصل کی۔ اس کے بعد بیرونی مراکز آئے جن کی شرح 35.3 فیصد رہی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عدالتوں کے علاوہ بھی دیگر مقامات پر عدالتی کارروائیاں تیزی سے ہو رہی ہیں۔
"کرایہ داری محکمہ” (Rental Department) نے مئی میں بڑی کامیابی حاصل کی، جہاں کل 13,499 معاملات نمٹائے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ یعنی 39.3 فیصد معاملات کرایہ وصولی کی رسیدوں سے متعلق تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ تو کسی وارننگ رسید کا اندراج ہوا اور نہ ہی "کرایہ ادا نہ کرنے کا سرٹیفکیٹ” جاری کیا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرایہ دار اب زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور وقت پر ادائیگی کر رہے ہیں۔
اس شعبے میں بھی دارالحکومت سب سے آگے رہا، جہاں سے 55.9 فیصد معاملات رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد حولی اور الفروانیہ کے علاقوں کا نمبر آیا۔ یہ اعداد و شمار ان علاقوں میں آبادی کے دباؤ اور کرایہ داری کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الیکٹرانک عدالتی نوٹسز کا نظام بھی کامیابی سے چل رہا ہے۔ مئی میں کل 3,875 نوٹسز جاری کیے گئے، جن میں سے 3,853 یعنی 99.4 فیصد نوٹس مکمل طور پر بھیجے اور نمٹائے گئے۔ یہ ڈیجیٹل سسٹم کی افادیت اور تیزی کا ثبوت ہے۔
روایتی (کاغذی) اشتہارات کی تعداد 237 رہی، جن میں سے 193 یعنی 81.4 فیصد مکمل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل نظام کی وجہ سے اب عدالتی کارروائیوں میں وقت اور وسائل کی بچت ہو رہی ہے۔


















