کویت اردو نیوز 03 دسمبر: کویت کی وزارت خارجہ نے آج ہفتہ کو ایک بیان میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سفارت خانے کو نشانہ بنانے والے مسلح حملے اور افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے انچارج ڈی افیئرز کو قتل کرنے کی کوشش پر ریاست کویت کی جانب سے شدید مذمت کا اظہار کیا۔
وزارت نے تشدد اور دہشت گردی کے خلاف ریاست کویت کے موقف پر زور دیا جبکہ ریاست کویت کی یکجہتی، اس کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے تمام اقدامات میں اس کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز افغان دارالحکومت میں پاکستانی ناظم الامور پر مسلح شخص نے قاتلانہ حملہ کیا جس میں سکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد وقتی طور پر ناظم الامور اور زخمی گارڈ کو پاکستان واپس بلوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے
وزارت خارجہ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ اُس وقت کی گئی جب ناظم الامور چہل قدمی کر رہے تھے۔

فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی گارڈ کے سینے میں تین گولیاں لگیں جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جمعہ کے روز پاکستانی سفارتخانے میں تعطیل کی وجہ سے باعث رش نہیں تھا۔
پاکستان کی شدید مذمت:
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کابل میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی عمارت پر حملہ کر کے ہیڈ آف مشن عبید الرحمان نظامانی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی مگر وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے جبکہ عبید الرحمان کی حفاظت کے دوران فائرنگ سے پاکستانی سکیورٹی گارڈ سپاہی اصرار محمد شدید زخمی ہوا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے افغانستان کی عبوری حکومت سے تحقیقات اور ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
حکومت پاکستان نے امارات اسلامیہ کی حکومت سے افغانستان میں موجود پاکستانی سفارتی عملے و شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔


















